دیکھا جب التفات کسی کا سنبھل   گیا

دیکھا جب التفات کسی کا سنبھل گیا

Best Sad Ghazal in Urdu
دیکھا جب التفات کسی کا سنبھل گیا
مجھ سے پھر آسماں کا رویّہ بدل گیا

جنبش سے ان لبوں کی یوں اک معجزہ ہوا
اک لفظ دلنشین زمانوں میں ڈھل گیا

محفل میں ایک شام وہ رقصاں ہوۓ تو پھر
منظر جو آس پاس تھا یکدم پگھل گیا

پربت پہ ایک خواب سے لپٹا ہوا تھا وہ
وقت ایک پل کو چھوڑ کے آگے نکل گیا

اک شب ،وہ جھیل، چاند کی لو اور وہ بدن
چاروں ملے تو ایک ارادہ اٹل گیا

دل، وہ خموش رات وہ سانسوں کا زیروبم
کچھ پل تو بچ بچا کے چلا پھر پھسل گیا

سترّ ارم میں لُوٹ کے بیٹھا تھا, اور شیخ
انکو مرے حساب میں دیکھا تو جل گیا

اتنا تو اس خیالؔ سے اچھا ہوا ضرور
خستہ تھا دل کا حال مگر کام چل گیا
Best Sad Ghazal in Urdu

Leave a Reply