Shehryar

Akhter Ali

khayal-outline-logo

تعارف

شہریار اختر علی خیال ؔ ، مطالعہ اور علم و تحقیق کے دلدادہ ہیں اور عقلیت پرستی ان کا ایمان ہے۔ آزادی ِخیال اور آزادیِ رائے کے مُبلّغ ہیں ،اور اسہی آزادی کا استعمال وہ اپنی شاعری میں کرتے نظر آتے ہیں۔

خیال ؔ نے معاشرے کے سلگتے ہوئے سماجی و مذہبی مسائل پر انتہائی بے باکی سے اپنے خیالات کا اظہار کیاہے۔ کبھی وہ بھوک اور افلاس کی مذمت کرتے ہیں تو کبھی انسانی جہل پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کبھی استحصالی منبر کو للکارتے ہیں اور کبھی عوامی فکری جمود اور بے حسی پر شکوہ کرتے ہیں۔

خیال ؔ نے انسانی بیداری کا خواب دیکھا ہے جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے
اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا سہارا لیا اور ظالم و جابر حکمرانوں، معاشرتی ناہمواریوں، مفاد پرست مذہبی ٹھیکیداروں، استحصالی معاشی نظام، قدیم کہنہ روایات و اساطیر، اور غیر عقلی عقائد و رسومات کے خلاف لفظوں کے نشتر سے انسانی روح کو بیدار کرنے کی سعی کی ہے۔

ان کی شاعری میں انسان کو تقّدم حاصل ہے، اور وہ انسانی شعور کو بیدار کرنےکی ایک بھرپور کوشش ہے۔ عظمتِ انسان خیال کی شاعری کی اساس ہے۔ خیال انسان کی جبیں پر سربلندی اور سرفرازی کا تاج دیکھنا چاہتے ہیں۔

IMG_1999_3

براہ راست ویڈیوز

غزلیں

Urdu Ghazlen
urdu ghazal shayari
ghazal in urdu
famous ghazal in urdu

نظمیں

Urdu Nazm
urdu nazam
urdu nazam poetry
urdu ki nazam